کاروار:17؍نومبر(ایس اؤ نیوز)سیلاب سے بری طرح متاثرہوئے اترکنڑا ضلع کو دی گئی امداد میں رکن اسمبلی روپالی نائک کمیشن کا دھندہ کررہی ہیں، معاملےمیں بہت بڑا گھپلہ ہورہاہے، وہ 25فی صد کمیشن لینے کا جے ڈی ایس لیڈر آنند اسنوٹیکر نے رکن اسمبلی پر سنگین الزام لگایا۔
شہر میں پیر کو پریس کانفرنس کے ذریعے بات کرتے ہوئے اسنوٹیکر نےکہاکہ سیلاب سے ہوئے نقصانات کے لئے مرکزی حکومت کی طرف سے مختلف کاموں کے لئے امداد منظور کی گئی ہے، اصول کے مطابق 5لاکھ روپیوں سے زائد کاموں کے لئے ٹینڈر بلا نا ہے، لیکن ٹینڈر کے بغیر 25سے 30فی صد کمیشن لےکر کاموں کو منظوری دی جارہی ہے، بی جے پی میں موجود ٹھیکداروں سے اطلاع ملنے کی بات کہی۔
غریبوں کو ملنے والی معاوضہ کی رقم کو اپنی جیب میں اتارنے کے کام کی میں مذمت کرتاہوں ، اگر یہ یوں ہی جاری رہا تو لوک آیوکتہ سے شکایت کرنےکی دھمکی دی۔ سیلاب سے کئی مسائل پیدا ہوئے ہیں، ان کا ٹھیک طرح سے ابھی تک کوئی حل نہیں ہواہے، بے شمار لوگ چھت کے لئے ، پیٹ ، کپڑوں کے لئے ، کسان فصل کے لئے پریشان ہیں، انہیں ملنےو الے معاوضے میں کمیشن لوٹنا کیا انصاف ہے؟ ایک رکن اسمبلی کے لئے اچھی بات نہیں ہے ؟ کہتے ہوئے سوال اٹھایا۔ اسنوٹیکر نے الزام لگایا کہ سابقہ ایم ایل اے 20فی صد کمیشن لینے کا پتہ چلا تھا تو موجود رکن اسمبلی ان سے ایک قدم آگے بڑھ کر رشوت میں ملوث ہیں۔
کئیگا کے 5اور6ویں مرکز کی تعمیر کو لےکر روپالی نائک نے ابھی تک اپنا فیصلہ ظاہر نہیں کیا ہے، کانگریس، بی جے پی ، جے ڈی ایس کے کارکنان احتجاج میں شریک ہورہے ہیں، لیکن رکن اسمبلی بہت خاموش ہیں، ملاپور میں ہوئے احتجاج میں بھی وہ غیر حاضر تھیں، کئیگا مراکز کی تعمیر کے متعلق ان کا کیا فیصلہ ہے سنانے کے لئے اسنوٹیکر نے زور دیا۔ اسی طرح آنند اسنوٹیکر نے بتایاکہ کاروار کے لئے ایک ہی ساحل ہے، اس کی ترقی کے بہانے اس کو برباد کرنےکی کوشش جاری ہے، اگر بندرگاہ کی توسیع کرنی ہے تو تدڈی ، بیلکیری میں کریں، یہاں توسیع کرنے سے ماہی گیروں کو مسئلہ ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ سیاحت کے لئے رکاوٹیں پیدا ہونگی ۔ ساحل بچاؤ کے لئے میں عوام کے ساتھ مل کر قانونی جدوجہد کرنےکا خیال ظاہر کیا۔